9 فروری 2011 - 20:30

ان دنوں اسلامی انقلاب کی کامیابی کی بتیسویں سالگرہ منائی جارہی ہے وہ انقلاب جو حالیہ صدیوں کا بے مثال اور منفرد انقلاب ہے اور شاید مبالغہ نہ ہوگا اگر کہا جائے کہ اسلام اور ایران کی تاریخ میں یہ ایک لاجواب انقلاب ہے۔

ابنا: ایران کے اسلامی انقلاب کی منفرد خصوصیات اسے دنیا میں آنے والے دیگر انقلابات سے ممتاز بنادیتی ہيں۔ بیسویں صدی میں روس کا انقلاب آیا ہے اور اس سے پہلے اٹھارہویں صدی میں فرانس کا انقلاب آيا مگر ان انقلابات کی بنیادیں چونکہ مادیات پر استوار تھیں اس لئے بہت جلد وہ اپنا اثر کھو گئے۔ فرانس اور روس کے انقلابات کا تو خود ان ملکوں کے اندر بھی کوئی اثر دیکھنے کو نہيں ملتا بلکہ یہ دونوں انقلابات صرف کتابوں میں پڑھے جاسکتے ہيں۔ فرانس کے انقلاب میں لافایٹ (Lafite) اور اور لئین جیسے لیڈروں نے خود کو قائد کے طورپر پیش کیا لیکن ان میں سے کسی نے بھی انقلاب کی تحریک اور اس کی کامیابی کے بعد کے برسوں میں مکمل طور پر انقلاب فرانس کی قیادت نہيں کی اسی طرح بیسویں صدی میں روس میں آنےوالے انقلاب میں اگر چہ لینن کا چہرہ ایک لیڈر کی حیثیت سے سامنے آیا مگر رومانوفوں کی حکومت کو گرانے میں ان کا کوئي کردار نہيں تھا۔روس کا انقلاب نظریاتی تھا اورنہ ہی اس کے لیڈر، بلکہ یہ لوگ انقلاب کے بعد سامنے آئے ہيں اسی طرح فرانس کے انقلاب میں بھی نظریات اور آئيڈیالوجی کا کوئی کردار نہيں تھا یہ توکلیسا کے خلاف ایک انقلاب تھا۔ لیکن جب ہم ایران کے اسلامی انقلاب پر نظر ڈالتے ہيں تو امام خمینی رح جیسے عظیم الشان قائد اس کی قیادت کرتے ہوئے نظر آتے ہيں اور ان کی الہی شخصیت ہی ایران کے اسلامی انقلاب کو دوسرے انقلابات سے ممتاز بناتی ہے کیونکہ امام خمینی جیسی شخصیت کسی بھی انقلاب میں دیکھنے کو نہيں ملتی ۔ایران کا اسلامی انقلاب ایک مدبر و ذہین فقیہ اور ایک بے مثال فلسفی کی زیرقیادت چلائی جانےوالی تحریک کا ثمرہ ہے ایسے فقیہ جنھوں نے شروع سے اس انقلاب کی باگ ڈور سنبھالی اور کامیابی کے بعد اس کو ہر طرح کی گزند سے محفوظ رکھ کر آنے والی نسلوں کے سپرد کیا ۔امام خمینی مکتب اہل بیت و قرآن کے تربیت یافتہ تھے اور انہوں نے اسلامی انقلاب کو اسلام اور اہل بیت کی تعلیمات کے ہی زیرسایہ آگے بڑھایا ۔اور انقلاب کی کامیابی کے دس برسوں بعد تک طرح طرح کے طوفانوں اور فتنہ و سازشوں کی آندھیوں سے بچاکر اس کو آفاقی بنادیا۔روس کےانقلاب کی جب ہم بات کرتے ہيں تو جب وہ رونما ہورہا تھا تو نہ صرف آس پاس کی حکومتوں بلکہ دنیا کی کسی بھی حکومت نے انقلابیوں کی مخالفت نہيں کی کیونکہ اس وقت کی روسی حکومت کی جرمنوں عثمانیوں اور جاپانیوں سے جنگوں کی وجہ سے سب نے انقلابیوں کی ہی حمایت کی اور فرانس میں بھی لوئیس شانزدھم کی آسٹریا، روس، اسپین اور دیگر ملکوں سے طولانی جنگ کی وجہ سے وہاں بھی سب نے انقلابیوں کی حمایت کی مگر ایران کا اسلامی انقلاب کچھ ایسے حالات میں رونما ہوا جب مشرق و مغرب کی تمام بڑی طاقتیں شاہ کی ظالم حکومت کی بھر پور حمایت کررہی تھیں اوراس بات کی کوشش کررہی تھیں کہ جیسے بھی ہو انقلاب کو کامیاب نہ ہونے دیا جائے چنانچہ دنیا کی تمام بڑی طاقتوں نے مل کر ایران عراق کے ڈکٹیٹر صدام کے ذریعہ غیر مساوی جنگ مسلط کرادی جو آٹھ سال تک جاری ہے اور اس میں بھی ایران کے جیالوں نے ہی کامیابی حاصل کی۔ایران کے اسلامی انقلاب کا جو سب سے اہم نعرہ تھا وہ سامراج کی مخالفت پر مبنی تھا اور اس نے اپنی پہچان ہی اس نعرے کو بنایا کہ نہ مشرق و نہ مغرب، ہم کسی بھی بلاک میں نہيں ہیں بلکہ ہم ایک اسلامی جمہوری نظام قائم کریں گے جو اسلامی تعلیمات پر استوار ہو گا ۔ اسی لئے اس وقت اور آج بھی دنیا کے مبصرین کا یہی کہنا ہے کہ ایران کا اسلامی انقلاب ایسے عالم میں کامیاب ہوا جب وہ ہر طرف سے یلغاروں کا شکار تھا مگر اس کے باوجود اسلامی انقلاب نے اس وقت داخلی استبداد اور غیرملکی سامراج کی کمر توڑی جب دنیا کی کو ئي بھی سیاسی طاقت ایران کے عوام کے ساتھ نہيں تھی۔اسلامی انقلاب کی بے شمار خصوصیات ہيں جن میں سے ایک اس کا دوٹوک اور صاف وشفاف موقف کا حامل ہونا تھا۔ ایران کے اسلامی انقلاب اور امام خمینی نے جس قوت کے خلاف سب سے پہلے آواز بلند کی وہ امریکہ تھا اور دنیا کو بتادیا کہ سب سے بڑا شیطان امریکہ ہے اور آج بتیس برس کا عرصہ گذرجانے کے بعد ایشیاء سے لے کر یورپ اور افریقہ سے لے کر لاطینی امریکہ کے عوام امام خمینی کے اس قول کو عملی شکل میں دیکھ اور خود بھی اپنی زبان سے یہ کہہ رہے ہیں کہ دنیا کا سب سے بڑا شیطان امریکہ ہے۔اسلامی انقلاب نے گذشتہ بتیس برسوں میں پوری دنیا پر اپنے اثرات مرتب کئے ہیں آج لبنان، فلسطین، عراق، شام اور تیونس و مصر میں اسلامی اقوام نے اسی اسلامی انقلاب سے الہام لیتے ہوئے استکباری اور سامراجی طاقتوں کو لرزہ براندام کردیا ہے۔آج ایران کا اسلامی انقلاب فرانس اور روس کے انقلابات کے برخلاف کہ جن کے خلاف کسی بھی طرح کی کوئی پابندیاں عائد نہيں کی گئي  تھیں تمام تر پابندیوں کا سامنے کرتے ہوئے ترقی پیشرفت اور آزادی وسرافرازی کے نقطہ کمال کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اس کی اسی آفاقیت کے پیش نظر ہی جن لوگوں نےاسلامی انقلاب کی کامیابی کے وقت اس کی دشمنی اور مخالفت میں کوئي کسر نہیں اٹھا رکھی تھی یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہيں کہ ہم ایران کے سلسلے میں شرمندگی کا احساس کررہے ہيں۔اسلامی انقلاب کی کامیابی کے وقت برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈيوڈ اوون نے گذشتہ روز ہی اپنے بیان میں اس بات کا اعتراف کیا کہ مغرب نے ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں اور طرح طرح کی دشمنیاں کرکے کچھ بھی حاصل نہيں کیا اور آج پورا مغرب ایران کے سامنے شرمندہ ہے۔

..........

/110